شنگھائی: 

چین میں ایک ارب پتی شخص نے 15 لاکھ ڈالر لاگت سے دنیا کا سب سے مہنگا ماسک بنوانے کا آرڈر دے دیا، 3 ہزار 607  سفید اور سیاہ رنگت کے قدرتی ہیروں سے بنے ماسک میں این 99  فلٹر کا نظام بھی موجود ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی شہر شنھگائی کے ایک ارب پتی نے اسرائیلی جیولری کمپنی کو دنیا کا سب سے مہنگا اور نایاب کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک کا آرڈر دیا ہے، جو 18 قیراط  کے 250 گرام سونے سے بنایا جا رہا ہے اس میں ہیرے بھی جڑے ہوں گے۔

یروشلم میں واقع  لگژری جیولری برانڈ کے نمائندے شیرون کارو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 3 ہزار 607  قدرتی سفید اور سیاہ ہیروں سے بنے اس ماسک  میں این 99 ( N-99 ) فلٹر کا نظام بھی موجود ہو گا، جو کورونا وائرس سے مکمل طور پر بچائے گا، اس ماسک کی قیمت ڈیڑھ ملین ڈالر (15 لاکھ ڈالر) ہوگی جو حقیقی طور پر دنیا کا مہنگا ترین ماسک ہوگا۔

جیولر کمپنی کے مطابق امریکا میں مقیم چینی بزنس مین نے اس انتہائی مہنگے ماسک کا آرڈر دیتے ہوئے 3 شرائط بھی رکھی ہیں، جس میں ماسک کا امریکی فیڈرل ڈرگ اتھارٹی اور یورپی معیارات کے مطابق ہونا، ماسک 31 دسمبر تک ڈیلیور کرنا اور تیسری شرط  ماسک دنیا کا مہنگا ترین ماسک ہو۔

جیولری ڈیزائنر اسحاق لیوی نے بتایا ہے کہ ماسک کو تیار کرنے کے لیے 25 جوہریوں کی ایک ٹیم بنائی گئی ہے جو شفٹوں میں کام کر رہی ہے تاکہ 31 دسبمر تک اس آرڈر کو ڈیلیور کردیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here