جنوری2021 : ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے وادی ہنزہ میں پھسو گلیشیر کےنزدیک تقریبا 50 ہمالیائی آئیبکس کےنایاب مناظر کی عکس بندی کی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور مقامیگروہ نے پاکستان کے گلگت بلتستان میں کیسےجنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنایا ہے، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ٹیم نے قدرتی نظام کی عکسبندی کیلئے مقامی فوٹوگرافر کی مدد سےہمالیہ آئیبکس کے ریوڑ /گروپ کے غیر معمولی مناظر کیمرے سے فوٹو گرافی کی۔ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کےمقام پر بنائی گئی یہ ویڈیو ہمالیائی آئیبکس کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی اور انکےبہترین ماحولیاتی نظام کی جانب ایک اشارہ ہے جوبرفانی چیتے ، پہاڑی بلی (لانکس) اور بھیڑیوں جیسے بڑے جنگلی جانوروں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

خیبر گاؤں میں ماحولیاتی نظام کی ویڈیو اور اس کے قدرتی رہائشی مقامات جنگلی حیات کے مناظر کی عکسبندی کیلئے اس ٹیم کو پہاڑوں کی بلندو بالا چوٹیوں اورپہاڑیوں کے دامن میں آئیبکس کے نشانات ملےجوتقریبا 3،660 سے 5000 میٹر کی بلندی پرپائےگئے یہ نایاب جنگلی حیات آئیبکس سرد اور برفیلے موسم اور خوراک کی تلاش کیلئے 2،135 میٹر کی بلندی پر آجاتے ہیں ۔ ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کی فلمساز نیال معین الدین اور مقامی فوٹوگرافر امتیاز احمد نے 20 سےزائد آئیبیکس کے گروپ کے مناظرکو فلمایا جسمیں زیادہ تر مادہ آئیبکس ہیں جن کی عمریں لگ بھگ ایک برس معلوم ہوتی ہیں اس مقام پر کم از کم 50 ہمالیہ آئیبیکس ایک ساتھ موجود تھے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان کےمطابق مقامی کمیونٹیز ہمالیائی آئیبکس کے تحفظ کی ذمیداری لےرہے ہیں جو ایک حوصلہ افزا اقدام ہے مقامی افرادکی کوششوں اور کمیونٹی وائلڈ لائف گارڈز کی جانب سے گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلی حیات اور وائلڈ لائف فوٹوگرافروں کے اقدامات سےمذکورہ مقامات کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔

اپنی نوعیت کے اس نایاب جنگلی جانور کو کئی خطرات درپیش ہیں جسمیں غیرقانونی شکار ،ان کی رہائشگاہوں کودرپیش نقصانات ،ماحولیاتی تبدیلی ،اس جنگلی جانورکےبارے میں آگاہی کا فقدان ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم دستیابی اور ان کے قدرتی رہائشی مقامات پر زرعی اراضی کی توسیع ان کیلئے نقصاندہ ہیں۔حالیہ ویڈیو سے معلوم ہوتاہے آئیبکس کے تحفظ کیلئے مقامی افراد کی کاوشوں کےباعث اس نایاب جنگلی حیات کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔

مقامی فوٹوگرافر امتیاز احمدکاکہناہےکہ جنگلی حیات کی فلمبندی کیلئے سب سے پہلے تحمل انتہائی ضروری ہے، موسم کی سختی اور دشوار مقامات سے مایوس نہیں ہوناچاہئے۔اگر ہمارے پاس برداشت اور تحمل ہے تو ہم خوش قسمت ہیں کہ ایسے نایاب مناظر کی عکسبندی کررہے ہیں۔ ان کا پیغام ہے کہ ہمیں ان علاقوں میں خوبصورت قدرتی مقامات پر موجود جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے جتنا ممکن ہو کوشش کرنا چاہئے خوش قسمتی سے ہماری اگلی نسل ان کی موجودگی کا مشاہدہ کرسکے گی،انھوں نےامید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اپنے تجربات دنیا کو دکھائیں گے ، جسکی مدد سے شمالی علاقوں میں پائےجانے والےنایاب جنگلی جانوروں کے بارے میں عام افراد میں آگاہی اور شعور پیدا ہوگا۔امتیاز احمد کا مزید کہناہےکہ یہی وقت ہے کہ ہم قدرت کےساتھ جڑجائیں اور اور اس کے تحفظ کے لئے ہم جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کریں۔

ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر برائےپروگرام رب نواز کا کہناہے کہ “تنظیم نے پاکستان کےگلگت بلتستان کےمقام پرآئیبکس کے تحفظ کی کوششوں کا آغاز کیاہے جس میں کمیونٹیز پر مشتمل تنظیموں کے قیام میں مدد اور مقامی افراد میں جنگلی حیات کی اہمیت سے متعلق آگاہی کے ذریعے ماحولیاتی نظام میں توازن برقرار رکھناشامل ہے۔ ان کا کہناہے کہ تین دہائیوں سے زائدکے عرصے کےبعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیبکس کی آبادی مستحکم ہورہی ہے جو یہاں بہترین ماحولیاتی نظام کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔ویڈیو میں نظرآنیوالے مناظر میں اس مقام پرآئیبکس کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی پاکستان میں اپنے 50 ویں سال میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے قدرتی نظام کےتحفظ کی کامیابی کا ایک خوش آئند اشارہ ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان حکومتی جنگلی حیات کے محکموں، متعلقہ اداروں اور کمیونٹی افراد کے تعاون سے جنگلی حیات کے تحفظ اور انکےقدرتی رہائشی مقامات کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے۔ ڈبلیوڈبلیو ایف نے 1990 میں ہمالیائی آئیبکس کےقدرتی رہائشی مقامات کے لئے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) کے تعاون سے بار ویلی ، ضلع نگر ، گلگت بلتستان میں ایک تحقیقی منصوبہ شروع کیاہے جس پرکمیونٹیز اور گلگت بلتستان پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ (جی بی ایف ڈبلیو ای ڈی) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئےگئے اس معاہدے کےمطابق مقامی کمیونٹیز اپنے قدرتی وسائل خصوصا آئیبکس کی نسل کا تحفظ کریں گی۔ یوں ان منصوبوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور آئیبکس کی آبادی میں اضافہ ہوا۔اس سے ناصرف جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے انسانی رویوں میں تبدیلی سے انسان اور جنگلی حیات کےدرمیان تنازعات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئےجارہے ہیں تاکہ جنگلی حیات ترقی کرسکے۔

حالیہ ویڈیو ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان کے یوٹیوب چینل پردیکھی جاسکتی ہے ٹیم کی جانب سے آئیبکس کے غیر معمولی مناظرفلم بند کئےگئے ہیں جو کیمرے کے پیچھے کی گئی ٹیم کی کاوشوں کا مظہر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here